__________________

روح وہ ازلی راز ہے جس کے ذریعے مٹی کا پیکر انسان کہلاتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو سب سے پہلے جسم کو مراحل سے گزارا مٹی پھر گارا پھر ٹھیکرا نما ڈھانچا مگر یہ سب محض ایک خاموش وجود تھا نہ اس میں شعور تھا نہ حرکت نہ پہچان پھر وہ لمحہ آیا جسے قرآن نے نہایت عظمت اور جلال کے ساتھ بیان کیا کہ اللہ نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی یہی وہ لمحہ ہے جب بے جان جسم زندہ ہو گیا جب آنکھ دیکھنے کے قابل ہوئی دل محسوس کرنے لگا عقل نے سوال اٹھائے اور انسان۔ انسان بن گیا ۔روح کو اللہ تعالیٰ نے کسی مادی عنصر سے پیدا نہیں کیا نہ وہ آگ سے ہے نہ نور سے نہ مٹی سے بلکہ وہ اللہ کے امر سے ہے امر کا مطلب یہ ہے کہ وہ تخلیق کے اُن قوانین سے ماورا ہے جنہیں انسان سمجھ سکتا ہے اسی لیے جب نبی کریم ﷺ سے روح کے بارے میں سوال کیا گیا تو اللہ نے فرمایا کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں اس کے علم میں سے بہت تھوڑا دیا گیا ہے اس ایک جملے میں انسان کی علمی حد بھی واضح کر دی گئی اور روح کی عظمت بھی۔ روح کوئی تجربہ گاہ میں پرکھی جانے والی چیز نہیں یہ وہ حقیقت ہے جسے صرف اثرات سے پہچانا جاتا ہے ذات سے نہیں ۔روح کی تخلیق کا انداز یہ بتاتا ہے کہ انسان محض حیوان نہیں بلکہ ایک امانت دار ہے اللہ نے روح پھونک کر انسان کو اپنی پہچان کا ظرف دیا خیر و شر کی تمیز عطا کی اور یہ صلاحیت دی کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہو سکے روح کے اندر ایک فطری کشش رکھی گئی ہے جو اپنے اصل کی طرف لوٹنا چاہتی ہے اسی کشش کو کبھی انسان سکون کہتا ہے کبھی بے قراری کبھی دعا کی تڑپ اور کبھی آنسوؤں صورت میں عبادت روح کی حقیقت یہ ہے کہ وہ جسم کی قیدی نہیں مگر دنیا میں اسے جسم کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہے روح دیکھتی ہے مگر آنکھ کے بغیر نہیں سنتی ہے مگر کان کے بغیر نہیں چاہتی ہے مگر دل کے بغیر نہیں یہ جسم اس کے لیے ایک سواری ہے ایک لباس ہے ایک ذریعہ ہے جب یہ لباس پرانا ہو جاتا ہے یا آزمائش کا وقت مکمل ہو جاتا ہے تو روح کو اس سے الگ کر لیا جاتا ہے یہی موت ہے مگر روح کے لیے فنا نہیں بلکہ ایک دروازہ ہے روح باقی رہتی ہے، شعور کے ساتھ احساس کے ساتھ، اپنے اعمال کے اثرات کے ساتھ روح نہ نیکی سے پاک ہوتی ہے نہ گناہ سے داغدار بلکہ اعمال اس پر اثر انداز ہوتے ہیں ذکر اسے جِلا دیتا ہے گناہ اسے بوجھل کر دیتے ہیں سچائی سے یہ مضبوط ہوتی ہے ظلم سے یہ زخمی ہوتی ہے۔ اسی لیے انسان کا باطن اگر بے چین ہو تو اصل میں روح فریاد کر رہی ہوتی ہے اور جب دل کو سکون ملے تو یہ روح کی تسکین ہوتی ہے دنیا کی کوئی چیز روح کو مکمل سیر نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا کی نہیں اپنے رب کی طرف منسوب ہے روح کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے آئی ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنی ہے دنیا میں اسے آزمایا جاتا ہے جسم کے تقاضوں نفس کی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کے درمیان اگر انسان روح کی آواز کو پہچان لے تو یہی روح اسے بلندی کی طرف لے جاتی ہے اور اگر وہ اسے نظرانداز کرے تو یہی روح خاموش گواہ بن کر قیامت کے دن حقیقت ظاہر کر دے گی یوں روح انسان کے اندر اللہ کی امانت ہے ایک مقدس چراغ جو ایمان سے روشن ہوتا ہے غفلت سے مدھم پڑتا ہے اور قربِ الٰہی سے اپنی اصل روشنی میں واپس آتا ہے۔ یہ نہ مکمل طور پر سمجھی جا سکتی ہے نہ نظر انداز کی جا سکتی ہے کیونکہ انسان کی اصل پہچان اسی روح سے ہے اور اسی کی کامیابی دراصل انسان کی کامیابی ہے

__________________

Rooh Ki Haqeeqat | Islam Mein Rooh Ka Raaz, Zindagi Aur Maut Ke Baad Safar

Some of the birthday quotes for my teacher capture the essence of learning and wisdom   they highlight how a teacher not only educates but also motivates us to become better human beings. Each message and image is designed to share heartfelt emotions while maintaining the elegance and respect your teacher deserves.

Conclusion

Rooh insan ki asal pehchan hai. Ye woh noorani amanat hai jo Allah ne apne hukm se insaan ke jism mein phoonki. Jism mitti se bana, magar rooh Rabb se aayi. Is duniya mein rooh jism ke sath imtihan se guzarti hai kabhi nafs ke bojh tale, kabhi shetan ke waswason mein, aur kabhi iman ke ujale mein. Jab insan apni rooh ki awaaz sun leta hai to usay sukoon milta hai, aur jab usay nazar andaz karta hai to andar bechaini paida hoti hai. Rooh kabhi nahi marti, sirf jism ka libaas utarta hai. Maut asal mein rooh ke liye aik naya darwaza hai. Jo rooh Allah ki yaad se roshan hoti hai, wahi qabr aur aakhirat mein bhi noor paati hai. Isi liye rooh ki hifazat, uski paaki aur uska Rabb se jurna hi insan ki asal kamyabi hai.

10 Questions & Answers

Q1: Islam mein rooh kya hai?
Rooh Allah ka amr hai jo insaan ko zindagi, hosh aur pehchan deta hai.

Q2: Kya rooh marti hai?
Nahi, rooh kabhi nahi marti. Sirf jism khatam hota hai, rooh apna safar jari rakhti hai.

Q3: Rooh aur jism ka kya rishta hai?
Jism rooh ka zariya hai, rooh usay chalati hai jaise sawari.

Q4: Maut ke baad rooh ka kya hota hai?
Rooh apne aamaal ke sath barzakh mein chali jati hai jahan usey nateeja mehsoos hota hai.

Q5: Rooh ko sukoon kaise milta hai?
Zikr, ibadat aur Allah ki yaad se rooh ko asli sukoon milta hai.

#RoohKiHaqeeqat
#SoulInIslam
#IslamicSpirituality
#RoohAurJism
#LifeAfterDeath
#QuranAndSoul
#IslamicKnowledge
#ImanAfroz
#RoohaniZindag

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts