__________________

انسان کی روح کے اندر ایک ایسا دروازہ ہوتا ہے جو صرف اس وقت کھلتا ہے جب دل پوری طرح اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے یہ دروازہ نہ دل کی دھڑکن میں چھپا ہوتا ہے نہ کسی احساس کے اندر بلکہ یہ اصل میں اس نور کے اندر چھپا ہوتا ہے جو انسان کے سینے میں بطور امانت رکھا گیا ہے جب یہ دروازہ کھلتا ہے تو روح خاموشی سے اوپر اٹھتی ہے اور جسم کو اس کا احساس بھی نہیں ہونے دیتی روح جب اس مقام تک پہنچتی ہے جہاں دنیا اور برزخ کے درمیان باریک سا پردہ کھڑا ہے تو وہاں اسے ایک ایسا منظر دکھائی دیتا ہے جو انسان کی عقل میں کبھی سما نہیں سکتا وہ مقام نہ مکمل روشنی ہوتا ہے نہ مکمل تاریکی بلکہ درمیان میں ایک ایسا عالم ہوتا ہے جسے اہل حقیقت عالم لطیف کہتے ہیں یہاں ہر رنگ کی ایک الگ خوشبو ہوتی ہے اور ہر خوشبو کا ایک الگ نور ہوتا ہے یہ نور روح کے اندر جا کر چھپ جاتا ہے اور جب وہ واپس جسم میں آتی ہے تو انسان کو احساس ہوتا ہے جیسے دل روشن ہو گیا ہو مگر اسے سمجھ نہیں آتی کہ یہ روشنی کہاں سے آئی برزخ کی گہرائیوں میں ایک ایسا مقام بھی ہے جہاں روح کو اپنے اعمال کی آوازیں سنائی دیتی ہیں نیک اعمال نرم اور روشن آوازوں کی صورت میں نظر آتے ہیں اور برے اعمال بھاری سائے کی مانند محسوس ہوتے ہیں یہاں روح خود فیصلہ نہیں کرتی بلکہ اسے اس کے اعمال کا سچا عکس دکھایا جاتا ہے بعض روحیں ان آوازوں کو سن کر روتی ہیں اور بعض جھک جاتی ہیں مگر یہ سب کچھ اتنا لطیف ہوتا ہے کہ دنیا میں اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں رہتا ایک اور مخفی مقام وہ ہے جہاں فرشتے روح کو ایسے مناظر دکھاتے ہیں جو دنیا کے وقت میں موجود نہیں ہوتے بعض مناظر روح کے اپنے مستقبل کے ہوتے ہیں بعض ماضی کے اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کے کسی پیمانے میں شامل ہی نہیں یہ مناظر روح کو بتاتے ہیں کہ کائنات میں ہر چیز کے پیچھے ایک ترتیب ایک حکمت اور ایک نور موجود ہے مگر یہ باتیں صرف روح جانتی ہے جسم نہیں جان سکتا برزخ میں کچھ راستے ایسے بھی ہیں جو مومن کی روح کو صرف اس وقت دکھائی دیتے ہیں جب وہ انتہائی پاکیزہ حالت میں ہوتی ہے ان راستوں کے کناروں پر سنہری ذرات تیرتے ہیں جن میں سے ہر ذرہ ایک نوری آواز لیے ہوتا ہے یہ آواز الفاظ نہیں ہوتی بلکہ ایک کیفیت ہوتی ہے جو دل کے اندر خاموشی سے اتر جاتی ہے بعض روحیں ان راستوں پر صرف چند قدم چلتی ہیں اور پھر دنیا کی طرف لوٹ آتی ہیں مگر صرف اتنا چلنا بھی انسان کی زندگی بدل دیتا ہے وہ واپس آ کر خود کو وہ نہیں پاتی جو پہلے تھی وہ زیادہ روشن زیادہ بردبار اور زیادہ گہری ہو جاتی ہے ان گہرے راستوں میں ایک ایسا مقام بھی ہے جسے مقام التفات کہا جاتا ہے یہاں پہنچ کر روح کو اپنے رب کے قرب کی شدید کیفیت محسوس ہوتی ہے یہاں کوئی شکل کوئی رنگ کوئی آواز نہیں ہوتی بلکہ ایک ایسی ہیبت اور رحمت کا ملا جلا نور ہوتا ہے جو روح کو جھکا دیتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں بعض اولیاء کی روحوں کو وہ راز دکھائے جاتے ہیں جنہیں وہ دنیا میں بیان بھی نہیں کر سکتے کیونکہ دنیا کے الفاظ وہ وسعت نہیں رکھتے جو ان مناظر کی حقیقت ہے روح جب ان اعلی مقامات سے واپس لوٹتی ہے تو جسم میں ایک لطیف لرزش اترتی ہے کبھی ایسا لگتا ہے جیسے سینے میں ایک نوری لمحہ جمع ہو گیا ہو کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دل پر ایک ہلکی سی دبیز روشنی رکھی ہو جسے چھوا تو جا سکتا ہے مگر دیکھا نہیں جا سکتا یہی وہ کیفیت ہے جسے اہل دل سوز کہتے ہیں یہی کیفیت انسان کو رات بھر جاگائے رکھتی ہے کبھی رلادیتی ہے کبھی مسکرا دیتی ہے اور کبھی انسان کو بالکل خاموش کر دیتی ہے یہی وہ مقام ہے جہاں جسم روح کا تابع ہو جاتا ہے اور روح اللہ کے نور کی طرف ایک ابدی سفر شروع کر دیتی ہے انسان دنیا میں رہ کر بھی دنیا سے اوپر اٹھ جاتا ہے اور اس کا دل ایسے جہانوں سے جڑ جاتا ہے جن تک عام نگاہوں کو رسائی نہیں۔۔ اگر پوسٹ پسند آئی ہو تو شیئر اور فالو کریں۔جزاک الل

__________________

Qabar Ka Azab: Rooh aur Jism Dono Par Asar | Islamic Guide

Some of the birthday quotes for my teacher capture the essence of learning and wisdom   they highlight how a teacher not only educates but also motivates us to become better human beings. Each message and image is designed to share heartfelt emotions while maintaining the elegance and respect your teacher deserves.

Conclusion

Rooh ka safar sirf maut ke baad shuru nahi hota, balke jab insan ka dil Allah ke noor ki taraf mukammal tawajju karta hai to usi waqt rooh ke andar chhupa hua darwaza khul jata hai. Is darwazay se rooh barzakh, alam-e-latif aur Allah ke qurb ki un duniyaon ko mehsoos karti hai jahan har rang noor hota hai aur har khamoshi aik paighaam hoti hai. Jab rooh apne aamaal ki awaazain sunti hai aur farishton ke dikhaye hue manazir dekhti hai to use samajh aata hai ke zindagi ka har lamha kisi gehri hikmat ke tahat chal raha hai. Maqam-e-Iltifaat par pohanch kar rooh Allah ki rehmat aur haibat ko mehsoos karti hai, aur jab wapas jism mein aati hai to dil mein aik roohani noor bas jata hai jo insan ko pehle se zyada narm, sabr wala aur gehra bana deta hai. Yahi woh roohani safar hai jo insan ko duniya mein reh kar bhi duniya se upar utha deta hai aur use Allah ke noor se jor deta hai.

10 Questions & Answers

Q1: Rooh ka asal maqam kya hota hai?
Rooh ka asal maqam Allah ke qurb aur noor ke qareeb hota hai jahan jism ki hadain khatam ho jati hain.

Q2: Barzakh kya hota hai?
Barzakh duniya aur aakhirat ke darmiyan aik roohani alam hai jahan rooh apne aamaal ki haqeeqat mehsoos karti hai.

Q3: Alam-e-Latif kisay kehte hain?
Yeh woh noorani duniya hoti hai jahan rang, khushboo aur noor alag alag roohani soorat mein hotay hain.

Q4: Farishtay rooh ko kya dikhate hain?
Farishtay rooh ko us ka maazi, mustaqbil aur Allah ki hikmat ke manazir dikhate hain.

Q5: Allah ka qurb kaisa hota hai?
Allah ka qurb aik aisi roohani haalat hoti hai jahan rooh par rehmat aur noor ki lahar utarti hai.

#RoohKaSafar #BarzakhKeRaaz #IslamicSpirituality #RoohaniIlm #AlamELatif #AllahKaQurb #SpiritualJourney #RoohAurNoor #IslamiMaloomat

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts