__________________

 اس واقعہ سے انسان اپنی پوری زندگی کو سمجھ سکتا ہے۔ کیسے کبھی دکھ کے پیچھے رحمت ہوتی ہے. کیسے نقصان دراصل حفاظت ہوتا ہے، کیسے انتظار میں خیر چھپی ہوتی ہے، اور کیسے اللہ کی حکمت ہماری نظر سے کہیں آگے ہے۔ یہ واقعہ وہ سفر ہے. جس میں اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو ظاہری علم سے باطنی علم تک لے جانے کا فیصلہ کیا۔ آغاز — جب موسیٰؑ نے جاننے کی خواہش کی ایک دن حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا: “زمین پر مجھ سے زیادہ علم والا کوئی نہیں۔” یہ بات اللہ کو پسند نہ آئی۔ اللہ نے وحی فرمائیں : “موسیٰ، ہمارا ایک بندہ ہے جس کے پاس وہ علم ہے جو تیرے پاس نہیں۔” موسیٰؑ حیران ہوئے۔ دل میں طلب جاگی— مجھے وہ بندہ ملنا چاہیے… مجھے اس علم کو سمجھنا ہے ۔ اللہ نے فرمایا: “وہ بندہ خضر ہے۔ تم دونوں کا ملاپ دریا کے کنارے ہو گا۔” یوں موسیٰؑ اپنے خادم یوشع بن نون کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئے۔ حضرت خضرؑ سے ملاقات — ایک انوکھا استاد سمندر کے کنارے ایک پتھر پر دونوں نے خضرؑ کو دیکھا آنکھوں میں نور، چہرے پر گہری خاموشی، اور وجود میں ایک ایسا رعب جو بتاتا تھا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں۔ موسیٰؑ نے ادب سے کہا: “کیا میں آپ کے ساتھ چل سکتا ہوں، تاکہ آپ مجھے وہ علم سکھائیں جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے؟” خضرؑ نے موسیٰؑ کی طرف دیکھا… اور ایک عجیب بات کہی: “تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے۔ جس بات کی حقیقت تم نہیں جانتے، اس پر کیسے صبر کرو گے؟” موسیٰؑ نے وعدہ کیا: “ان شاء اللہ، آپ مجھے صابر پائیں گے۔” خضرؑ نے فرمایا: “پھر میرے ساتھ چلو، مگر شرط یہ ہے کہ جو میں کروں، اس کے بارے میں سوال نہ کرنا— جب تک میں خود نہ بتاؤں۔” یہ تھا باطنی علم کا پہلا اصول— “پہلے دیکھو، پھر سیکھو، پھر سمجھو۔” سفر کا پہلا واقعہ — کشتی میں سوراخ دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی والے غریب تھے، محنت سے روزی کماتے تھے۔ خضرؑ نے کشتی میں سوراخ کر دیا۔ موسیٰؑ چونک گئے: “آپ نے یہ کیا کیا؟ یہ تو غریبوں کی کشتی ہے! وہ ڈوب جائیں گے!” خضرؑ نے نرم لہجے میں کہا: “میں نے تم سے کہا تھا— صبر نہیں کر سکو گے۔” موسیٰؑ نے معزرت کیا لیکن دل میں سوال ابھی بھی جل رہا تھا: یہ کیسا عمل تھا؟ دوسرا واقعہ — لڑکے کو قتل کرنا چلتے چلتے خضرؑ کو ایک نوجوان لڑکا ملا۔ خضرؑ نے اسے قتل کر دیا۔ موسیٰؑ چیخ اٹھے: “یہ تو بہت بڑی زیادتی ہے! ایک بے گناہ کو کیوں قتل کیا؟” خضرؑ نے پھر کہا: “میں نے کہا تھا… جو چیز تمہاری نظر میں حیبت ہے، اس کی حکمت ابھی تم نہیں جانتے۔” موسیٰؑ دل تھام کر خاموش ہو گئے، لیکن اندر سے لرز رہے تھے۔ تیسرا واقعہ — ٹوٹی ہوئی دیوار بنانا تین دن سفر کے بعد وہ ایک ایسے گاؤں پہنچے جہاں لوگوں نے انہیں کھانا تک نہ دیا۔ پھر بھی خضرؑ نے وہاں ایک گرنے والی دیوار سیدھی کر دی۔ موسیٰؑ نے کہا: “یہ نا مہربان لوگ ہیں… کم از کم آپ محنت کا معاوضہ تو مانگ سکتے تھے!” خضرؑ نے کہا: “یہ وہ مقام ہے جہاں ہم جدا ہوں گے۔ اب میں تمہیں وہ حقیقتیں بتاؤں گا جو تمہاری آنکھوں سے چھپی تھیں۔” باطنی حکمت — وہ راز جو دل بدل دے پہلی حکمت: کشتی “وہ کشتی غریب لوگوں کی تھی۔ سامنے بادشاہ غصب کے لیے ہر اچھی کشتی کو چھین لیتا تھا۔ میں نے سوراخ کر دیا تاکہ بادشاہ اسے لے نہ سکے اور وہ کشتی غریبوں کے پاس محفوظ رہے۔” یعنی: نقصان بھی کبھی کبھی حفاظت ہوتا ہے۔ دوسری حکمت: لڑکا “وہ لڑکا بڑا ہو کر کفر اور سرکشی اختیار کرتا، اپنے والدین کے لیے آزمائش بنتا۔ اللہ انہیں اس سے بہتر اور پاکیزہ اولاد دے گا۔” یعنی: اللہ بعض چیزیں اس لیے لے لیتا ہے تاکہ بہتر عطا کرے۔ تیسری حکمت: دیوار “اس دیوار کے نیچے دو یتیم بچوں کا خزانہ چھپا تھا۔ ان کا باپ نیک آدمی تھا۔ اللہ چاہتا تھا کہ خزانہ محفوظ رہے، اس لیے میں نے دیوار کھڑی کر دی۔” یعنی: برائی کرنے والوں کے بھی درمیان اللہ اپنی حکمت چلتا ہے۔ وہ اپنی رحمت کے دروازے ہر جگہ کھول سکتا ہے۔ آخر میں خضرؑ نے موسیٰؑ سے کہا: “اے موسیٰ! اللہ کا علم سمندر ہے۔ ہمیں صرف ایک قطرہ دیا گیا ہے۔ جس بات کو تم سمجھ نہ پاؤ، اس پر بد گمانی نہ کرو۔ موسیٰؑ کا دل روشن ہو گیا۔ انہوں نے جان لیا کہ زندگی صرف وہ نہیں جو نظر آتی ہے— اللہ کی حکمت اس سے کہیں وسیع ہے۔ اس واقعے کا بڑا سبق — زندگی بدل دینے والی حکمتیں ہر دکھ کے پیچھے کوئی بھلائی ہوتی ہے صبر وہ چابی ہے جو بند تقدیریں کھول دیتی ہے اللہ اپنی رحمت چھپا کر کام کرتا ہے ہماری نظر کمزور، اللہ کی حکمت بے مثال جو بھروسہ کرتا ہے… وہ کبھی اکیلا نہیں ہوتا سب سے بڑی حقیقت: جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اسے وہاں سے راستہ دیتا ہے جہاں راستہ ہوتا ہی نہیں اگر پوسٹ پسند آئی ہو تو لائک اینڈ شیئر کر دیں

__________________

Hazrat Musa aur Khidr ka Waqia – Allah Ki Chupi Hui Hikmat aur Sabr Ka Raaz

Some of the birthday quotes for my teacher capture the essence of learning and wisdom   they highlight how a teacher not only educates but also motivates us to become better human beings. Each message and image is designed to share heartfelt emotions while maintaining the elegance and respect your teacher deserves.

Conclusion

Hazrat Musa aur Khidr ka waqia humein yeh sikhata hai ke har dukh ke peechay rehmat hoti hai, har nuksan me Allah ki hifazat chupi hoti hai, aur har intezar me koi na koi bhalai zaroor hoti hai. Allah ki hikmat hamari nazar se bohat aage hoti hai. Jo cheez humein buri lagti hai, wahi hamare liye behtareen hoti hai. Is kahani se humein sabr aur Allah par bharosa karna seekhna chahiye, kyunki jo Allah par yaqeen rakhta hai, Allah usay wahan se raasta deta hai jahan raasta hota hi nahi. Allah ki chupi hui hikmat hi asal me zindagi ka sab se bara raaz hai.

10 Questions & Answers

Q1. Hazrat Musa aur Khidr ka waqia Quran me kahan aata hai?
Ans: Surah Al-Kahf me yeh waqia bayan hua hai.

Q2. Khidr ko kya khaas ilm diya gaya tha?
Ans: Unhein Allah ka batini ilm diya gaya tha.

Q3. Kashti me surakh kyun kiya gaya?
Ans: Taake zalim badshah use na chheen sake.

Q4. Bache ko kyun maara gaya?
Ans: Taake uske walidain ko aazmaish se bachaya ja sake.

Q5. Deewar kyun banayi gayi?
Ans: Yateem bachon ka khazana mehfooz rakhne ke liye.

Q6. Is waqia ka sab se bara lesson kya hai?
Ans: Allah ki hikmat hamari samajh se bohat bari hoti hai.

Q7. Kya har nuksan asal me nuksan hota hai?
Ans: Nahi, kabhi kabhi nuksan bhi hifazat hota hai.

Q8. Sabr ki ahmiyat kya hai?
Ans: Sabr Allah ki madad aur rehmat ko kholta hai.

Q9. Khidr ne Musa se sawal na karne ko kyun kaha?
Ans: Kyunki har cheez ki hikmat foran zahir nahi hoti.

Q10. Is kahani se hum kya seekhte hain?
Ans: Allah par yaqeen aur sabr zindagi ka bunyadi asool hai.

#HazratMusa #HazratKhidr #IslamicStory #QuranicLessons #Sabr #AllahKiHikmat #IslamicMotivation #DukhMeRehmat #AllahParBharosa #DeenKiBaat

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts