__________________

جنت کے ننھے پرندےجو دنیا سے جلدی رخصت ہو جاتے ہیں۔۔۔! زندگی کے سب سے کڑوے لمحوں میں سے ایک وہ ہے، جب ماں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی گود کے پھول کو مرجھاتا دیکھتی ہے۔ وہ معصوم کلی جو ابھی کھلی بھی نہیں تھی اچانک ماں کی باہوں سے چھین لی جاتی ہے۔ وہ ننھا سا مسافر جس نے ابھی پوری سانس بھی نہیں لی ہوتی لوٹ کر اللہ کے پاس چلا جاتا ہے۔ یہ دکھ ایسا ہے جو ماں باپ کے دل پر پہاڑ کی طرح گرتا ہے۔ مگر ذرا ٹھہریے …! یہ جدائی ہمیشہ کی نہیں۔ یہ وہی بچے ہیں جو حقیقت میں جنت کے ننھے پرندے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو بچے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، وہ جنت کے دروازوں پر کھڑے رہتے ہیں۔ جب اپنے والدین کو آتا دیکھتے ہیں تو ان کے دامن پکڑ لیتے ہیں اور انہیں جنت ” میں داخل ہونے تک نہیں چھوڑتے۔ (مسند احمد) سوچئے! وہ بچے نہ روٹھے ہوئے ہیں، نہ بھٹکے ہوئے بلکہ جنت کے دروازے پر پہرے دار بنے کھڑے ہیں، کہ میرے والدین آئیں گے اور میں ان کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کروں گا۔ کیا یہ بچے چھوٹے رہیں گے یا بڑے ہو جائیں گے؟ اکثر دلوں میں سوال اٹھتا ہے کیا یہ بچے ہمیشہ بچے ہی رہیں گے؟ علما فرماتے ہیں برزخ میں یہ اپنی معصوم صورت پر ہی رہیں گے تاکہ والدین پہچان سکیں۔ لیکن جب اصل جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں كامل جنتى شكل عطا کرے گا، یعنی 30 سال کی حسین عمر جیسا ہر جنتی ہوگا۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بچے جنت میں والدین کے ساتھ ہوں گے۔ پہلے اپنی کمسنی کے ساتھ پہچانے جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ انہیں جنتی عمر عطا کرے گا۔ حادي الارواح کیا منظر ہوگا وہ بچہ جو دنیا میں کبھی بول نہ سکا تھا، جنت میں اپنی ماں کو پہچان کر مسکرائے گا… پھر جوان حسین اور کامل شکل میں اس کے ساتھ ہمیشہ رہے گا۔ والدین کے لیے سب سے بڑی تسلی نبی ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوئے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کو لازم کر دیتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر دو ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور اگر دو ہوں تب بھی۔ (صحیح بخاری) ایک اور روایت میں آیا ہے وہ بچے جنت میں والدین کے دامن کو پکڑ کر کھینچتے ہیں اور کہتے ہیں: اے اللہ ! یہ ہمارے والدین ہیں۔(مسند احمد) یعنی وہی بچے جو دنیا میں ماں باپ کو روتا چھوڑ گئے تھے، قیامت کے دن ہنسا کر جنت میں لے جائیں گے۔۔۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آؤں گا اور کھٹکھٹاؤں گا۔ دربان کہے گا کون ہے؟ میں کہوں گا محمد وہ کہے گا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تیرے لیے دروازہ کھولوں اور تیرے سوا کسی کے لیے نہ کھولوں۔ (صحیح مسلم) اس کا مطلب ہے کہ اصل جنت کے دروازی قیامت تک بند ہیں۔ تو پھر بچے کہاں ہیں؟ علماء کے مطابق وہ برزخ کے جنتی باغات میں ہیں۔ وہاں پرندوں کی طرح کھیلتے ہیں۔ فرشتے ان کے ساتھی ہیں۔ اور وہ والدین کے صبر کے بدلے ان کے لیے نجات کا وسیلہ بنتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا جنت میں بچے چھوٹے پرندوں کی طرح ہیں، جو کھیلتے” ہیں اور والدین کا انتظار کرتے ہیں۔(طبرانی) ذرا تصور کیجیے دنیا میں ماں کے آنچل میں مسکرائے بغیر ہی جانے والا بچہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہو۔ وہ والدین جو دنیا میں ٹوٹ گئے تھے، جنت کے دروازے پر اپنے بچے کو دیکھ کر کہیں گے یہ تو میرا بچہ ہے جو دنیا میں مجھ سے جدا ہوا تھا اور بچہ مسکرا کر جواب دے گا اماں بابا میں آپ کا منتظر تھا۔ آپ کے صبر نے مجھے” یہاں کھڑا کیا ہے۔ آپ کے بغیر میں جنت میں نہیں جاؤں گا۔ کیا منظر ہوگا جب وہی ننھا پھول جو دنیا میں زخم چھوڑ گیا تھا، آخرت میں شفا بن کر ماں باپ کو جنت میں داخل کرے گا۔ چند مزید احادیث رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں، وہ جہنم سے بچا لیا جائے گا۔ حضرت انس روایت کرتے ہیں (صحیح بخاری) جنت میں بچے چھوٹے پرندوں کی طرح ہیں، جو کھیلتےرہتے ہیں۔(طبرانی) نبی ﷺ نے فرمایا جب کسی بندے کے بچے کا انتقال ہوتا ہے اور وہ صبر کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو کہتا ہے میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام رکھو بیت “الحمد شکر کا گھر۔(ترمذی) والدین کے لیے پیغام کو یاد رکھیے! وہ بچے جو دنیا سے جلدی رخصت ہو گئے، کہیں گم نہیں ہوئے۔ وہ اللہ کے پاس محفوظ خزانے ہیں۔ وہ جنت کے ننھے پرندے ہیں جو ماں باپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ والدین کا صبر ہی ان کے ساتھ دوبارہ ملنے کا دروازہ کھولے گا۔ یہ تحریر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت ان آنسوؤں کو ضائع نہیں جانے دیتی جو ماں باپ اپنے بچوں کے لیے بہاتے ہیں۔ بلکہ وہی آنسو جنت کے راستے کو روشن کر دیتے ہیں۔ میری پوسٹ اچھی لگی ہو تو پلیز لائیک اور شیئر کریں ۔جزاک اللہ۔

__________________

Khokha e Hafsa: Masjid Nabawi Ki Wo Khuli Khirki Jo 1400 Saal Se Hazrat Umar RA Ke Waday Ki Gawahi Deti Hai

Conclusion

Yeh haqeeqat hai ke jannat ke nanhe parinday woh masoom bachay hain jo duniya se jaldi chalay jatay hain lekin Allah ke qareeb mehfooz hotay hain. Islam mein bacho ki wafat walidain ke liye sirf gham nahi balkay jannat ka zariya hoti hai. Jo maa baap walidain ka sabr ikhtiyar kartay hain, unke jannati bachay qiyamat ke din unka haath pakar kar jannat ke darwazay tak le jatay hain. Hadith on child death humein batati hai ke yeh bachay barzakh mein bhi rehmat aur sukoon mein hotay hain. Is liye loss of child in Islam ka matlab khatam hona nahi balkay Allah ki rehmat ka shuru hona hai. Jo walidain sabr aur tawakkul rakhtay hain, unke liye jannat aur masoom bachay aik din hamesha ki khushi ban jatay hain.

10 Questions & Answers

Q1: Jannat ke nanhe parinday kaun hotay hain?
A: Woh bachay jo choti umar mein wafat pa jatay hain aur jannat mein Allah ke mehman hotay hain.

Q2: Islam mein bacho ki wafat ka kya darja hai?
A: Islam mein bacho ki wafat walidain ke liye jannat ka sabab hoti hai.

Q3: Kya jannati bachay walidain ko pehchantay hain?
A: Ji haan, barzakh mein bhi aur jannat mein bhi.

Q4: Walidain ka sabr kyun zaroori hai?
A: Sabr se walidain ko jannat aur Allah ki raza milti hai.

Q5: Hadith on child death kya kehti hai?
A: Nabi ﷺ ne farmaya ke bachay walidain ko jannat mein le jatay hain.

Q6: Kya bachay barzakh mein khush hotay hain?
A: Ji haan, woh jannati baghon mein hotay hain.

Q7: Loss of child in Islam ka matlab kya hai?
A: Yeh imtehan bhi hai aur jannat ka darwaza bhi.

Q8: Kya teen bachon ki wafat par jannat wajib hoti hai?
A: Hadees ke mutabiq haan, do par bhi.

Q9: Jannat ke darwazay bachay kyun pakartay hain?
A: Taake apne walidain ko jannat mein le ja sakain.

Q10: Muslim parents ko kya tasalli di gayi hai?
A: Ke unke bachay jannat ke nanhe parinday ban chukay hain.

#JannatKeNanheParinday
#IslamMeinBachoKiWafat
#JannatiBachay
#WalidainKaSabr
#IslamicQuotes
#ChildLossIslam
#JannatAurBachay
#Hadith
#IslamicReminder
#GrievingParents

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts